Font by Mehr Nastaliq Web

مرے نو رسیدہ بت کو جو ہوس شکار کی ہے

گلزار دہلوی

مرے نو رسیدہ بت کو جو ہوس شکار کی ہے

گلزار دہلوی

MORE BYگلزار دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "بت نو رسیدۂ من ہوس شکار دارد" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    مرے نو رسیدہ بت کو جو ہوس شکار کی ہے

    سبھی دل ہیں صید اس کے اسے فکر ہزار کی ہے

    پھنسا زلف میں مرا دل جلا حسن سے جگر بھی

    مری جان، جان باقی ابھی جاں نثار کی ہے

    نہیں تاب مجھ کو دیکھوں جو رقیب روسیہ کو

    مرے گل قریب تیرے جو خلش یہ خار کی ہے

    مرا سینہ کر کے چھلنی مجھے قتل کر خدا را

    وہاں سانس بھی نہ گذرے جو جگہ پیار کی ہے

    ہے تیرا اسیر خسرو ذرا دیکھ مردمی سے

    مری جان دیکھ حالت جو دلِ فگار کی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 121)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے