اے اجل تیرا ہی رستہ عمر بھر دیکھا کیے
اے اجل تیرا ہی رستہ عمر بھر دیکھا کیے
داستانِ زندگی کو محتصر دیکھا کیے
بزم میں ان مست آنکھوں کا اثر دیکھا کیے
دیدۂ حیرت سے ہم کیفِ نظر دیکھا کیے
ہو گیا دل کو یقیں تکمیل غم کا ہوگیا
اپنی اک اک آہ کو جب بے اثر دیکھا کیے
جس قفس سے آشیاں جلتا ہوا آیا نظر
اس طرف دیکھا نہ جاتا تھا مگر دیکھا کیے
ایک قطرہ بھی لہو کا جب نہ دل میں رہ گیا
آنسوؤں کے تارمیں خونِ جگر دیکھا کیے
جو بہاروں میں نہ اڑ کر آشیاں تک جا سکے
ہائے کس حسرت سے وہ بے بال و پر دیکھا کیے
وہ نیاز بندگی سے عمر بھر غافل رہے
جو پرستش گاہ میں دیوار و در دیکھا کیے
کیا خبر مجھ کو کہاں لے آیا ذوق درد عشق
حسن کے جلوؤں کو فردوس نظر دیکھا کیے
انقلابِ دہر کی حافظؔ ہیں یہ نیرنگیاں
عالمِ ہستی کو ہم زیر وزبر دیکھا کیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.