رنج سے سیکڑوں بو سے بھی جو رخسار کے دو
رنج سے سیکڑوں بو سے بھی جو رخسار کے دو
اس سے بہتر ہے محبت کا اک اور پیار کے دو
مدتوں سے میں طلب گار تھا سو بوسوں کا
مانگتا ہوں ستم ایجاد فقط ہار کے دو
دونوں زلفوں کے لیے چشم خماریں دونوں
گویا من آگے نمودار ہیں دو مار کے دو
پیچ کاکل کے نہیں ہیں ترے آنکھوں کے قریں
نافۂ مشک ہیں دو آہو ئے تاتار کے دو
مل گئے چار پھر شب میں مجھے بوسے چار
زلف شب رنگ کے دو خال سیہ کار کے دو
ابروئے یار نہیں ہیں یہ سرو ہی دونوں
پاس ہتھیار ہیں اس قاتل خونخوار کے دو
ایک تو باد خزاں دوسرا دستِ گلچیں
گل رخو! دیکھنا دشمن ہیں یہ گلزار کے دو
کیا ہی اعجاز تھا اس عارف ربانی کا
اک اشارہ میں کئے ماہ پر انوار کے دو
گردش کوچہ سفاک ہو موقوف اثیمؔ
پاؤں رہ جائیں اگر اس دلِ بیمار کے دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.