Font by Mehr Nastaliq Web

رنج سے سیکڑوں بو سے بھی جو رخسار کے دو

حکیم محمد اثیم

رنج سے سیکڑوں بو سے بھی جو رخسار کے دو

حکیم محمد اثیم

MORE BYحکیم محمد اثیم

    رنج سے سیکڑوں بو سے بھی جو رخسار کے دو

    اس سے بہتر ہے محبت کا اک اور پیار کے دو

    مدتوں سے میں طلب گار تھا سو بوسوں کا

    مانگتا ہوں ستم ایجاد فقط ہار کے دو

    دونوں زلفوں کے لیے چشم خماریں دونوں

    گویا من آگے نمودار ہیں دو مار کے دو

    پیچ کاکل کے نہیں ہیں ترے آنکھوں کے قریں

    نافۂ مشک ہیں دو آہو ئے تاتار کے دو

    مل گئے چار پھر شب میں مجھے بوسے چار

    زلف شب رنگ کے دو خال سیہ کار کے دو

    ابروئے یار نہیں ہیں یہ سرو ہی دونوں

    پاس ہتھیار ہیں اس قاتل خونخوار کے دو

    ایک تو باد خزاں دوسرا دستِ گلچیں

    گل رخو! دیکھنا دشمن ہیں یہ گلزار کے دو

    کیا ہی اعجاز تھا اس عارف ربانی کا

    اک اشارہ میں کئے ماہ پر انوار کے دو

    گردش کوچہ سفاک ہو موقوف اثیمؔ

    پاؤں رہ جائیں اگر اس دلِ بیمار کے دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے