Font by Mehr Nastaliq Web

گرا ہے اشک کا قطرہ زمیں پر پاؤں کے نیچے

حکیم محمد اثیم

گرا ہے اشک کا قطرہ زمیں پر پاؤں کے نیچے

حکیم محمد اثیم

MORE BYحکیم محمد اثیم

    گرا ہے اشک کا قطرہ زمیں پر پاؤں کے نیچے

    میری تقدیر کو دیکھو ہے گوہر پاؤں کے نیچے

    وہ سوز عشق ہے دل میں کہ ہوتے خاک جل جل کر

    اگر فولاد بھی رہ جاے دم بھر پاؤں کے نیچے

    جنوں ہے ابروئے خمدار کا پھرتا ہوں کانٹوں میں

    جگر میں تیغ پر جو ہر ہے خنجر پاؤں کے نیچے

    زمیں ہے سرخ خونِ پا سے اوپر دھوپ کی گرمی

    ہے سر پر طشت زریں لعل احمر پاؤں کے نیچے

    بہا ہے اشک پاؤں تک جگر میں آہ سوزاں ہے

    ہے طرفہ سینہ جلتا ہے سمندر پاؤں کے نیچے

    طبیعت کی رسائی سے فلک پر جا کے میں پہنچا

    ہوا ہے عرش اعلی سرپہ اختر پاؤں کے نیچے

    میں وہ جاں باز عاشق ہوں کہ جس کے سامنے آکر

    ہزاروں خوبرو کھاتے ہیں ٹھوکر پاؤں کے نیچے

    نہیں ہے نعل یہ کفش ستم ایجاد میں اس کی

    چمکتے ہیں ہلالِ ماہ انور پاؤں کے نیچے

    اثیمؔ اس غنچۂ خوبی کا جلوہ دیکھ گلشن میں

    ہزاروں پھول ٹکراتے ہیں آکر پاؤں کے نیچے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے