گرا ہے اشک کا قطرہ زمیں پر پاؤں کے نیچے
گرا ہے اشک کا قطرہ زمیں پر پاؤں کے نیچے
میری تقدیر کو دیکھو ہے گوہر پاؤں کے نیچے
وہ سوز عشق ہے دل میں کہ ہوتے خاک جل جل کر
اگر فولاد بھی رہ جاے دم بھر پاؤں کے نیچے
جنوں ہے ابروئے خمدار کا پھرتا ہوں کانٹوں میں
جگر میں تیغ پر جو ہر ہے خنجر پاؤں کے نیچے
زمیں ہے سرخ خونِ پا سے اوپر دھوپ کی گرمی
ہے سر پر طشت زریں لعل احمر پاؤں کے نیچے
بہا ہے اشک پاؤں تک جگر میں آہ سوزاں ہے
ہے طرفہ سینہ جلتا ہے سمندر پاؤں کے نیچے
طبیعت کی رسائی سے فلک پر جا کے میں پہنچا
ہوا ہے عرش اعلی سرپہ اختر پاؤں کے نیچے
میں وہ جاں باز عاشق ہوں کہ جس کے سامنے آکر
ہزاروں خوبرو کھاتے ہیں ٹھوکر پاؤں کے نیچے
نہیں ہے نعل یہ کفش ستم ایجاد میں اس کی
چمکتے ہیں ہلالِ ماہ انور پاؤں کے نیچے
اثیمؔ اس غنچۂ خوبی کا جلوہ دیکھ گلشن میں
ہزاروں پھول ٹکراتے ہیں آکر پاؤں کے نیچے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.