پیدا ہوئے دنیا میں جناب شہ دیں آج
پیدا ہوئے دنیا میں جناب شہ دیں آج
ہوں عرش پہ کیوں کر نہ سرِ اہلِ زمیں آج
معمور نہ ہو نور سے کیوں عرش بریں آج
معراج کو آئے ہیں یہاں سرور دیں آج
ہے وصل کی شب چلئے بلایا ہے خدا نے
حضرت کو سناتے ہیں یہ جبریل امیں آْج
اصنامِ حرم گر کے زمیں پر یہ پکارے
پیدا ہوا وہ جس سے کہ ہے رونق دیں آج
حسرت ہے کہ دیکھوں ترے محبوب کو یارب
رخسار مبارک کا نظارہ ہو کہیں آج
معراج کی شب کہتی ہیں خوش ہو کے یہ حوریں
عاشق ہے خدا جس کا وہ آتا ہے حسیں آج
یا شاہ گرفتار مصیبت ہوں خبر لو
حامی مرا حضرت کے سوا کوئی نہیں آج
حضرت کے تصور سے ہے سینہ مرا جنت
ہے ساکن دل عرش معلیٰ کا مکیں آج
گر جائے مری چشم سے فردوش کا نقشہ
آنکھوں سے جو دیکھوں میں مدینہ کی زمیں آج
کچھ نعت میں لکھہ تو بھی ہلالؔ اس شہ دیں کی
ہیں مدح کنان ساکن افلاک و زمیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.