Font by Mehr Nastaliq Web

پیدا ہوئے دنیا میں جناب شہ دیں آج

ہلال اکبرآبادی

پیدا ہوئے دنیا میں جناب شہ دیں آج

ہلال اکبرآبادی

MORE BYہلال اکبرآبادی

    پیدا ہوئے دنیا میں جناب شہ دیں آج

    ہوں عرش پہ کیوں کر نہ سرِ اہلِ زمیں آج

    معمور نہ ہو نور سے کیوں عرش بریں آج

    معراج کو آئے ہیں یہاں سرور دیں آج

    ہے وصل کی شب چلئے بلایا ہے خدا نے

    حضرت کو سناتے ہیں یہ جبریل امیں آْج

    اصنامِ حرم گر کے زمیں پر یہ پکارے

    پیدا ہوا وہ جس سے کہ ہے رونق دیں آج

    حسرت ہے کہ دیکھوں ترے محبوب کو یارب

    رخسار مبارک کا نظارہ ہو کہیں آج

    معراج کی شب کہتی ہیں خوش ہو کے یہ حوریں

    عاشق ہے خدا جس کا وہ آتا ہے حسیں آج

    یا شاہ گرفتار مصیبت ہوں خبر لو

    حامی مرا حضرت کے سوا کوئی نہیں آج

    حضرت کے تصور سے ہے سینہ مرا جنت

    ہے ساکن دل عرش معلیٰ کا مکیں آج

    گر جائے مری چشم سے فردوش کا نقشہ

    آنکھوں سے جو دیکھوں میں مدینہ کی زمیں آج

    کچھ نعت میں لکھہ تو بھی ہلالؔ اس شہ دیں کی

    ہیں مدح کنان ساکن افلاک و زمیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے