Font by Mehr Nastaliq Web

یاد آ آ کر مری ہستی پہ چھا جاتا ہے کون

ہوش اکبرآبادی

یاد آ آ کر مری ہستی پہ چھا جاتا ہے کون

ہوش اکبرآبادی

MORE BYہوش اکبرآبادی

    یاد آ آ کر مری ہستی پہ چھا جاتا ہے کون

    درمیاں سے میری ہستی بھی ہٹا جاتا ہے کون

    اک یقینِ بے سبب دل میں جما جاتا ہے کون

    ہر گمانِ ما سوا دل سے مٹا جاتا ہے کون

    شب کو حسنِ ماہ بن کر دن کو بن کر رنگِ گل

    ہر بہانے اک نہ اک جلوہ دکھا جاتا ہے کون

    بخش کر ذوقِ نظر کو جستجو کے مستقل

    بیخودی کا شوق پر پردہ گرا جاتا ہے کون

    بجلیاں سی کوند جاتی ہیں فضائے عشق میں

    بن کے سر تا پا تصور مسکرا جاتا ہے کون

    بے سبب ہی کچھ امیدیں اور کچھ مایوسیاں

    عشق کے عالم میں یہ ہلچل مچا جاتا ہے کون

    پھر تمنا مضطرب ہے پھر نظر ہے بے قرار

    شوق کو یہ چٹکیاں لینا سکھا جاتا ہے کون

    بن کے دردِ عشق مجھ کو کون تڑپاتا ہے ہوشؔ

    اس قدر آخر مرے نزدیک آ جاتا ہے کون

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے