یاد آ آ کر مری ہستی پہ چھا جاتا ہے کون
یاد آ آ کر مری ہستی پہ چھا جاتا ہے کون
درمیاں سے میری ہستی بھی ہٹا جاتا ہے کون
اک یقینِ بے سبب دل میں جما جاتا ہے کون
ہر گمانِ ما سوا دل سے مٹا جاتا ہے کون
شب کو حسنِ ماہ بن کر دن کو بن کر رنگِ گل
ہر بہانے اک نہ اک جلوہ دکھا جاتا ہے کون
بخش کر ذوقِ نظر کو جستجو کے مستقل
بیخودی کا شوق پر پردہ گرا جاتا ہے کون
بجلیاں سی کوند جاتی ہیں فضائے عشق میں
بن کے سر تا پا تصور مسکرا جاتا ہے کون
بے سبب ہی کچھ امیدیں اور کچھ مایوسیاں
عشق کے عالم میں یہ ہلچل مچا جاتا ہے کون
پھر تمنا مضطرب ہے پھر نظر ہے بے قرار
شوق کو یہ چٹکیاں لینا سکھا جاتا ہے کون
بن کے دردِ عشق مجھ کو کون تڑپاتا ہے ہوشؔ
اس قدر آخر مرے نزدیک آ جاتا ہے کون
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.