Font by Mehr Nastaliq Web

لٹ گیا کاروانِ زیست آئی نہ لب پہ آہ تک

ہوش اکبرآبادی

لٹ گیا کاروانِ زیست آئی نہ لب پہ آہ تک

ہوش اکبرآبادی

MORE BYہوش اکبرآبادی

    لٹ گیا کاروانِ زیست آئی نہ لب پہ آہ تک

    میں تھا رہینِ زندگی پیار کی اک نگاہ تک

    کیا ہوا پھر نہیں خیر ہم کو تو اتنا ہوش ہے

    عشق کشاں کشاں چلا حسن کی جلوہ گاہ تک

    کیفِ تمام بن کے خود دل سے کسی نے یہ کہا

    میں ہوں تجھی میں جلوہ گر غیر کی تو نہ راہ تک

    اس کی نگاہِ ناز سے کون رکھے امیدِ لطف

    حالِ خراب عشق پر جس نے نہ کی نگاہ تک

    ہوتا ہے کون عشق میں دیکھیے سر فرازِ دید

    اپنا تو اختیار ہے حسرتِ گاہ گاہ تک

    قصۂ اضطراب کیا کیسی شکایت فراق

    عشق بقیدِ ہوش ہے حسن کی اک نگاہ تک

    توڑ دیا طلسم سب دل نے تعینات کا

    لے گئی مجھ کو موج شوق جلوۂ بے پناہ تک

    ہوتی ہے کیسے دیکھیے ہوشؔ کی عاقبت بخیر

    ذکر ہے نیکیوں کا کیا کر نہ سکا گناہ تک

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے