لٹ گیا کاروانِ زیست آئی نہ لب پہ آہ تک
لٹ گیا کاروانِ زیست آئی نہ لب پہ آہ تک
میں تھا رہینِ زندگی پیار کی اک نگاہ تک
کیا ہوا پھر نہیں خیر ہم کو تو اتنا ہوش ہے
عشق کشاں کشاں چلا حسن کی جلوہ گاہ تک
کیفِ تمام بن کے خود دل سے کسی نے یہ کہا
میں ہوں تجھی میں جلوہ گر غیر کی تو نہ راہ تک
اس کی نگاہِ ناز سے کون رکھے امیدِ لطف
حالِ خراب عشق پر جس نے نہ کی نگاہ تک
ہوتا ہے کون عشق میں دیکھیے سر فرازِ دید
اپنا تو اختیار ہے حسرتِ گاہ گاہ تک
قصۂ اضطراب کیا کیسی شکایت فراق
عشق بقیدِ ہوش ہے حسن کی اک نگاہ تک
توڑ دیا طلسم سب دل نے تعینات کا
لے گئی مجھ کو موج شوق جلوۂ بے پناہ تک
ہوتی ہے کیسے دیکھیے ہوشؔ کی عاقبت بخیر
ذکر ہے نیکیوں کا کیا کر نہ سکا گناہ تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.