Font by Mehr Nastaliq Web

بہت تھے آرام مجھ کو حاصل محبت ناگہاں سے پہلے

ہوش اکبرآبادی

بہت تھے آرام مجھ کو حاصل محبت ناگہاں سے پہلے

ہوش اکبرآبادی

MORE BYہوش اکبرآبادی

    بہت تھے آرام مجھ کو حاصل محبت ناگہاں سے پہلے

    مگر تھی بے کیف زندگانی ترے غمِ مہرباں سے پہلے

    حقیقت دردِ دل نہیں کچھ درست ارشاد ہے یہ لیکن

    بتائیے تو کہ آپ کیا تھے ہمارے دردِ نہاں سے پہلے

    چھپائے سے بھی نہ چھپ سکا جو یہ عشق کافر ہے وہ قیامت

    کیا ہے افشائے راز جاناں مری نظر نے زباں سے پہلے

    خیال الفت کو ترک کر دی ضرور سمجھاؤں گا یہ دل کو

    مگر ہے کچھ آپ سے بھی کہنا مجھے دل نیم جاں سے پہلے

    تری تبسم بھری نظر نے کیا و ہ جادو دلِ حزیں پر

    کہ آکے کھویا میں پھر اسی جاگزر گیا تھا جہاں سے پہلے

    یہ گر یہ سامانیٔ محبت یہ عشق کا اہتمام رنگیں

    اک آہ اشکِ رواں کے پیچھے اک آہ اشکِ رواں سے پہلے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے