بہت تھے آرام مجھ کو حاصل محبت ناگہاں سے پہلے
بہت تھے آرام مجھ کو حاصل محبت ناگہاں سے پہلے
مگر تھی بے کیف زندگانی ترے غمِ مہرباں سے پہلے
حقیقت دردِ دل نہیں کچھ درست ارشاد ہے یہ لیکن
بتائیے تو کہ آپ کیا تھے ہمارے دردِ نہاں سے پہلے
چھپائے سے بھی نہ چھپ سکا جو یہ عشق کافر ہے وہ قیامت
کیا ہے افشائے راز جاناں مری نظر نے زباں سے پہلے
خیال الفت کو ترک کر دی ضرور سمجھاؤں گا یہ دل کو
مگر ہے کچھ آپ سے بھی کہنا مجھے دل نیم جاں سے پہلے
تری تبسم بھری نظر نے کیا و ہ جادو دلِ حزیں پر
کہ آکے کھویا میں پھر اسی جاگزر گیا تھا جہاں سے پہلے
یہ گر یہ سامانیٔ محبت یہ عشق کا اہتمام رنگیں
اک آہ اشکِ رواں کے پیچھے اک آہ اشکِ رواں سے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.