نہ کر پھنسا کے قفس میں تو نیم جاں صیاد
نہ کر پھنسا کے قفس میں تو نیم جاں صیاد
یہ دام زلف بلایا ہے جانستاں صیاد
عبث بنا ہے جہاں میں ستم رساں صیاد
کھلے گی حشر میں کیوں کر تری زباں صیاد
بچھا لے پھندا پھنسا لے ہزار جان و دل
فنا کے بعد کہاں ہم ہیں تو کہاں صیاد
اٹھا نقاب کو اب تو دکھا دے صورت کو
تڑپ رہے ہیں زمانہ سے عاشقاں صیاد
ہزار مرغ چمن منتیں کریں اس کی
پر ایک ذرّہ نہ ہوئے گا مہرباں صیاد
ہمارے دل کے کبوتر کو کیا پھنسا سکتا
بنا ہے قاصد دیکھو یہاں وہاں صیاد
مروں گا حسرت دیدار یار میں لیکن
عذاب ہجر رہےگا مرا عیاں صیاد
الٰہی رحم تو کر ترس آئے قاتل کو
رخ صنم تو دکھا کر کے لے لے جاں صیاد
وصال ہونے دے قاتل نہ ذبح کر مجھ کو
کہ رہ نہ جائے یہ ارمان مرا نہاں صیاد
جلے جگر سے یہ تجھ سے بیان کرتا ہوں
کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد
ہزار کی ہے اللہ یار میں نے پربازی
مگر ملا ہی نہیں مجھ کو کچھ نشاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.