Font by Mehr Nastaliq Web

نہ کر پھنسا کے قفس میں تو نیم جاں صیاد

الہ بخش خاں

نہ کر پھنسا کے قفس میں تو نیم جاں صیاد

الہ بخش خاں

MORE BYالہ بخش خاں

    نہ کر پھنسا کے قفس میں تو نیم جاں صیاد

    یہ دام زلف بلایا ہے جانستاں صیاد

    عبث بنا ہے جہاں میں ستم رساں صیاد

    کھلے گی حشر میں کیوں کر تری زباں صیاد

    بچھا لے پھندا پھنسا لے ہزار جان و دل

    فنا کے بعد کہاں ہم ہیں تو کہاں صیاد

    اٹھا نقاب کو اب تو دکھا دے صورت کو

    تڑپ رہے ہیں زمانہ سے عاشقاں صیاد

    ہزار مرغ چمن منتیں کریں اس کی

    پر ایک ذرّہ نہ ہوئے گا مہرباں صیاد

    ہمارے دل کے کبوتر کو کیا پھنسا سکتا

    بنا ہے قاصد دیکھو یہاں وہاں صیاد

    مروں گا حسرت دیدار یار میں لیکن

    عذاب ہجر رہےگا مرا عیاں صیاد

    الٰہی رحم تو کر ترس آئے قاتل کو

    رخ صنم تو دکھا کر کے لے لے جاں صیاد

    وصال ہونے دے قاتل نہ ذبح کر مجھ کو

    کہ رہ نہ جائے یہ ارمان مرا نہاں صیاد

    جلے جگر سے یہ تجھ سے بیان کرتا ہوں

    کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

    ہزار کی ہے اللہ یار میں نے پربازی

    مگر ملا ہی نہیں مجھ کو کچھ نشاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے