آتا ہے چلا یاں وہ مرا مہر مبیں آج
آتا ہے چلا یاں وہ مرا مہر مبیں آج
اے ماہ جو دعویٰ ہو مقابل ہو یہیں آج
یاں آہ و فغاں میں ہے مری جان حزیں آج
مضطر ہے وہاں شور سے وہ پردہ نشیں آج
آغوش میں اپنے ہے جو وہ پردہ نشیں آج
مجھ کو غم دنیا ہے نہ کچھ ہے غم دیں آج
کل ہم نے اسی واسطے اقرار لیا تھا
واللہ بگڑ جائےگی بولے جو نہیں آج
ہو کرکے جدا روح مرے تن سے یہ بولی
یہ جس کا مکاں تھا نہیں وہ اس میں مکیں آج
کیوں کر نہ ہو عاشق کو جدائی کا ترے رنج
وہ کون ہے پیاری ہے جسے جان نہیں آج
کس عاشق دل سوحتہ نے کی ہے یہ فریاد
تھراتا ہے جو عرش بھی ہلتی ہے زمیں آج
غیروں نے تو کچھ کان میں پھونکا نہیں ان کے
کس واسطے یوں مجھ سے ہیں وہ چیں بچیں آج
الفاظ نہیں لا ئے فناؔ شعر میں اپنے
گویا ہے جڑا آپ نے خاتم پہ نگیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.