Font by Mehr Nastaliq Web

آتا ہے چلا یاں وہ مرا مہر مبیں آج

عنایت حسین فنا

آتا ہے چلا یاں وہ مرا مہر مبیں آج

عنایت حسین فنا

MORE BYعنایت حسین فنا

    آتا ہے چلا یاں وہ مرا مہر مبیں آج

    اے ماہ جو دعویٰ ہو مقابل ہو یہیں آج

    یاں آہ و فغاں میں ہے مری جان حزیں آج

    مضطر ہے وہاں شور سے وہ پردہ نشیں آج

    آغوش میں اپنے ہے جو وہ پردہ نشیں آج

    مجھ کو غم دنیا ہے نہ کچھ ہے غم دیں آج

    کل ہم نے اسی واسطے اقرار لیا تھا

    واللہ بگڑ جائےگی بولے جو نہیں آج

    ہو کرکے جدا روح مرے تن سے یہ بولی

    یہ جس کا مکاں تھا نہیں وہ اس میں مکیں آج

    کیوں کر نہ ہو عاشق کو جدائی کا ترے رنج

    وہ کون ہے پیاری ہے جسے جان نہیں آج

    کس عاشق دل سوحتہ نے کی ہے یہ فریاد

    تھراتا ہے جو عرش بھی ہلتی ہے زمیں آج

    غیروں نے تو کچھ کان میں پھونکا نہیں ان کے

    کس واسطے یوں مجھ سے ہیں وہ چیں بچیں آج

    الفاظ نہیں لا ئے فناؔ شعر میں اپنے

    گویا ہے جڑا آپ نے خاتم پہ نگیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے