نگاہِ دوست تیرا اک اشارا
نگاہِ دوست تیرا اک اشارا
پھر اس کے بعد ہر غم ہے گوارا
غلط ہے نا خدا تیرا سہارا
محبت خود ہی طوفاں خود کنارا
میں کر لوں ہر تمنا سے کنارا
مجھے مل جائے بس دامن تمہارا
ارے دامن جھٹک کر جانے والے
کسی نے دیر تک تجھ کو پکارا
اٹھا دے بڑھ کے پردہ چشم مشتاق
در و دیوار کا کب تک سہارا
یہ اپنی اپنی تقدیرِ طلب ہے
مجھے طوفاں ملا تجھ کو کنارا
محبت کا یہ میداں بھی عجب ہے
یہاں بازی وہی جیتا جو ہارا
دمِ رخصت وہ میرا عالمِ شوق
صدا دی دل نے نظروں نے پکارا
وہ عالم بھی ہے کیا عالم کی جس دم
غمِ دشمن بھی ہو جائے گوارا
ہجوم یاس سے گھبرانے والے
اسی طوفاں میں ملتا ہے کنارا
نہ کر اے دل ملالِ کم نگاہی
بہت ہوتا ہے اتنا بھی سہارا
لرز کر رہ گیا ہر تار ہستی
بہت نزدیک سے تو نے پکارا
جھکا لیں خود نگاہیں میں نے اقبالؔ
شکستِ حسن تھی کس کو گوارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.