Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر ان کا ہے کبھی صبح کبھی شام کے ساتھ

اقبال صفی پوری

ذکر ان کا ہے کبھی صبح کبھی شام کے ساتھ

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    ذکر ان کا ہے کبھی صبح کبھی شام کے ساتھ

    زندگی رقص میں ہے گردشِ ایام کے ساتھ

    آنکھ ساقی کی طرف دل طلبِ جام کے ساتھ

    حسنِ آغاز بھی ہے عشرتِ انجام کے ساتھ

    ہائے کیا چیز ہے اک لفظِ محبت کا اثر

    نبض کونین ٹھہر جاتی ہے اس نام کے ساتھ

    اک شب اس زلف کے سائے میں رہے تھے ہم بھی

    نیند ہم کو بھی کبھی آئی تھی آرام کے ساتھ

    زلف تابانیٔ عارض کو بڑھا دیتی ہے

    صبح ہوجاتی ہے کچھ اور حسیں شام کے ساتھ

    اب نہ احساسِ خلش ہے نہ تمنائے سکوں

    ہم جیے جاتے ہیں اک لذتِ بے نام کے ساتھ

    اپنے دامن میں لیا بڑھ کے ستاروں نے انہیں

    ہائے وہ اشک جو نکلے تھے ترے نام کے ساتھ

    کبھی جلوؤں کا اشارہ کبھی نظروں کا سکوت

    عشق بڑھتا ہی گیا نامہ و پیغام کے ساتھ

    مری عظمت کے لیے ہے یہی کیا کم اے دوست

    کہ مرا نام تو آتا ہے ترے نام کے ساتھ

    گردش ان مست نگاہوں کی نہ سمجھے اقبالؔ

    دور تک ہم بھی گئے گردشِ ایام کے ساتھ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے