ذکر ان کا ہے کبھی صبح کبھی شام کے ساتھ
ذکر ان کا ہے کبھی صبح کبھی شام کے ساتھ
زندگی رقص میں ہے گردشِ ایام کے ساتھ
آنکھ ساقی کی طرف دل طلبِ جام کے ساتھ
حسنِ آغاز بھی ہے عشرتِ انجام کے ساتھ
ہائے کیا چیز ہے اک لفظِ محبت کا اثر
نبض کونین ٹھہر جاتی ہے اس نام کے ساتھ
اک شب اس زلف کے سائے میں رہے تھے ہم بھی
نیند ہم کو بھی کبھی آئی تھی آرام کے ساتھ
زلف تابانیٔ عارض کو بڑھا دیتی ہے
صبح ہوجاتی ہے کچھ اور حسیں شام کے ساتھ
اب نہ احساسِ خلش ہے نہ تمنائے سکوں
ہم جیے جاتے ہیں اک لذتِ بے نام کے ساتھ
اپنے دامن میں لیا بڑھ کے ستاروں نے انہیں
ہائے وہ اشک جو نکلے تھے ترے نام کے ساتھ
کبھی جلوؤں کا اشارہ کبھی نظروں کا سکوت
عشق بڑھتا ہی گیا نامہ و پیغام کے ساتھ
مری عظمت کے لیے ہے یہی کیا کم اے دوست
کہ مرا نام تو آتا ہے ترے نام کے ساتھ
گردش ان مست نگاہوں کی نہ سمجھے اقبالؔ
دور تک ہم بھی گئے گردشِ ایام کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.