قربتیں ہیں کس درجہ اور کس قدر تنہا
قربتیں ہیں کس درجہ اور کس قدر تنہا
پاس پاس رہ کر بھی ہیں دل و نظر تنہا
اور کس سے طے ہوتی غم کی رہ گزر تنہا
سر کیا محبت نے بڑھ کے یہ سفر تنہا
آرزو بھی حسرت بھی درد بھی مسرت بھی
سیکڑوں ہیں ہنگامے زندگی مگر تنہا
شہر میں بہار آئی رونقیں ہیں صحرا میں
بس گئے ہیں ویرانے رہ گئے ہیں گھر تنہا
ایک شعلہ سا اٹھا ایک برق سی چمکی
ختم ہوگئے جلوے رہ گئی نظر تنہا
خلوتوں میں اک عالم جلوتوں میں اک محشر
کب کسی کو ملتا ہے حسنِ بے خبر تنہا
ایک بدگمانی کا احترام کیا کہیے
عشق ہے ادھر چپ چپ حسن ہے ادھر تنہا
ایک پل جدا ہو کر ان سے یہ ہوا محسوس
زندگی گزاری ہے جیسے عمر بھر تنہا
اس طرف سے گزریں گے وہ کبھی تو اے اقبالؔ
جل رہی ہے مدت سے شمعِ رہ گزر تنہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.