Font by Mehr Nastaliq Web

قربتیں ہیں کس درجہ اور کس قدر تنہا

اقبال صفی پوری

قربتیں ہیں کس درجہ اور کس قدر تنہا

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    قربتیں ہیں کس درجہ اور کس قدر تنہا

    پاس پاس رہ کر بھی ہیں دل و نظر تنہا

    اور کس سے طے ہوتی غم کی رہ گزر تنہا

    سر کیا محبت نے بڑھ کے یہ سفر تنہا

    آرزو بھی حسرت بھی درد بھی مسرت بھی

    سیکڑوں ہیں ہنگامے زندگی مگر تنہا

    شہر میں بہار آئی رونقیں ہیں صحرا میں

    بس گئے ہیں ویرانے رہ گئے ہیں گھر تنہا

    ایک شعلہ سا اٹھا ایک برق سی چمکی

    ختم ہوگئے جلوے رہ گئی نظر تنہا

    خلوتوں میں اک عالم جلوتوں میں اک محشر

    کب کسی کو ملتا ہے حسنِ بے خبر تنہا

    ایک بدگمانی کا احترام کیا کہیے

    عشق ہے ادھر چپ چپ حسن ہے ادھر تنہا

    ایک پل جدا ہو کر ان سے یہ ہوا محسوس

    زندگی گزاری ہے جیسے عمر بھر تنہا

    اس طرف سے گزریں گے وہ کبھی تو اے اقبالؔ

    جل رہی ہے مدت سے شمعِ رہ گزر تنہا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے