یوں انہیں احوالِ دردِ عشق سمجھاتا ہے دل
یوں انہیں احوالِ دردِ عشق سمجھاتا ہے دل
ہر نفس غم کی نئی تصویر بن جاتا ہے دل
شامِ غم کچھ آنسوؤں سے یوں بہل جاتا ہے دل
کہکشاں بھی سامنے آئے تو ٹھکراتا ہے دل
اور کچھ سوزِ نہاں کی آگ بھڑکاتا ہے دل
اشک برسانے سے قابو میں کہیں آتا ہے دل
روز اک سیلِ تمنا روز اک طوفانِ شوق
اپنی ہی طغیانیوں میں ڈوبتا جاتا ہے دل
ان سے ہی وابستہ رہ کر زندگی ہے زندگی
وہ اگر دامن چھڑا لیں پھر تو مر جاتا ہے دل
یہ نگاہ و دل کا رشتہ بھی ہے نازک کس قدر
ہر نگاہِ لطف کی جنبش پہ گھبراتا ہے دل
سوز و سازِ غم میں ہیں دونوں برابر کے شریک
دل کو سمجھاتا ہوں میں اور مجھ کو سمجھاتا ہے دِل
کوئی شیشہ مل رہا ہے جیسے ساغر سے گلے
اف وہ نازک ساعتیں جب دل سے ٹکراتا ہے دل
کِس قدر تاریک ہیں لمحاتِ شامِ انتظار
بجھتے جاتے ہیں ستارے ڈوبتا جاتا ہے دل
وہ نگاہیں دے رہی ہیں لاکھ پیغام سکوں
اس کو کیا کیجے کہ بے قابو ہوا جاتا ہے دل
ہر نفس اک شعلہ ہے اقبالؔ ہر ڈھڑکن ہے آگ
غم میں جلتا ہے تو جلتا ہی چلا جاتا ہے دل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.