سناؤں تجھ کو میں کیا جور بوستاں صیاد
سناؤں تجھ کو میں کیا جور بوستاں صیاد
غضب یہ ہے کہ بنا اب تو باغباں صیاد
ہوس ہو خاک مجھے اپنے کھانے پینے کی
خیال میں ہے ترے خواب تک گراں صیاد
جو منہ سے کہنا ہے کہہ لے تو اپنے اے ظالم
کرے گا ورنہ مرا عذر بے زباں صیاد
یہ عرض حال دل زار کس طرح کیجے
سمجھتا ہی نہیں ہے مری زباں صیاد
میں چھپ کے چشم نگہباں سے اب کدھر جاؤں
پہنچ گیا ہے چمن میں دواں دواں صیاد
ہمارے نالۂ شگبیر کی صدا سن کر
ہوا ہے مونس و غمحوار ور از داں صیاد
جو میں بہاتا ہوں آنسو سحاب روتا ہے
کروں میں نالہ تو کرنے لگے فغاں صیاد
جو توڑ ڈالے ہیں بازو مڑور دے گردن
قفس میں بند نہ کر مجھ کو نیم جاں صیاد
فلک نے آج تک کیسا تفرقہ ڈالا
رہا میں تجھ سے اور تو مجھ سے بدگماں صیاد
ہے عزم سیر چمن کیا خبر نہیں تجھ کو
ہے کل سے باغ میں ارشادؔ میہماں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.