Font by Mehr Nastaliq Web

سناؤں تجھ کو میں کیا جور بوستاں صیاد

ارشاد حسین بہاری

سناؤں تجھ کو میں کیا جور بوستاں صیاد

ارشاد حسین بہاری

MORE BYارشاد حسین بہاری

    سناؤں تجھ کو میں کیا جور بوستاں صیاد

    غضب یہ ہے کہ بنا اب تو باغباں صیاد

    ہوس ہو خاک مجھے اپنے کھانے پینے کی

    خیال میں ہے ترے خواب تک گراں صیاد

    جو منہ سے کہنا ہے کہہ لے تو اپنے اے ظالم

    کرے گا ورنہ مرا عذر بے زباں صیاد

    یہ عرض حال دل زار کس طرح کیجے

    سمجھتا ہی نہیں ہے مری زباں صیاد

    میں چھپ کے چشم نگہباں سے اب کدھر جاؤں

    پہنچ گیا ہے چمن میں دواں دواں صیاد

    ہمارے نالۂ شگبیر کی صدا سن کر

    ہوا ہے مونس و غمحوار ور از داں صیاد

    جو میں بہاتا ہوں آنسو سحاب روتا ہے

    کروں میں نالہ تو کرنے لگے فغاں صیاد

    جو توڑ ڈالے ہیں بازو مڑور دے گردن

    قفس میں بند نہ کر مجھ کو نیم جاں صیاد

    فلک نے آج تک کیسا تفرقہ ڈالا

    رہا میں تجھ سے اور تو مجھ سے بدگماں صیاد

    ہے عزم سیر چمن کیا خبر نہیں تجھ کو

    ہے کل سے باغ میں ارشادؔ میہماں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے