Font by Mehr Nastaliq Web

کہانی ایسی کبھی سنی تھی ذرا بتاؤ تو منصفانہ

جعفرالنسا جمال

کہانی ایسی کبھی سنی تھی ذرا بتاؤ تو منصفانہ

جعفرالنسا جمال

MORE BYجعفرالنسا جمال

    کہانی ایسی کبھی سنی تھی ذرا بتاؤ تو منصفانہ

    بس اور کچھ دیر دل سنبھالو تمام ہے اب مرا فسانہ

    کچھ ایسے بے کیف آدمی بھی نظر اب آنے لگے ہیں جن کا

    کبھی ہے یارانہ محتسب سے کبھی ہے ساقی سے دوستانہ

    گزر گیا عہد شادمانی رہی نہ باقی کوئی نشانی

    بہار اب ہے نہ باغ و بلبل نہ شاخ گل اور نہ آشیانہ

    نہ شوق پرواز کی خطا ہے نہ جذبۂ سیر بام ناقص

    لکھا ہوا تھا مرے مقدر میں اب قفس ہی کا آب و دانا

    غم و خوشی زندگی میں اپنی کچھ ایسے گھل مل کے رہ گئے ہیں

    جمال میرے لیے ہے یکساں فغاں ہو یا نغمہ و ترانہ

    مأخذ :
    • کتاب : دبستانِ عظیم آباد (Pg. 96)
    • مطبع : نکھار پریس مئو ناتھ بھنجن (1982)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے