ہر کسی پر بے سبب قاتل نہ تو تلوار کھینچ
ہر کسی پر بے سبب قاتل نہ تو تلوار کھینچ
ایسے فعلوں سے ذرا ہاتھوں کو تو اے یار کھینچ
خواست گار سایۂ فضل و کرم تجھ سے ہوں میں
دامن لطف و عطا مجھ سے نہ اے دلدار کھینچ
کیا بگاڑا ہے ترا عاشق پہ کیوں ہے یہ ستم
ہاتھ اپنا ظلم سے اے چرخ کج رفتار کھینچ
گو بُرا ہوں یا بھلا جیسا ہوں تیرا ہی ہوں میں
میرے ہر ہر عیب پر اک پردہ اے ستار کھینچ
باندہ ہمت کی کمر مثلِ زلیخا العزیز
جذبہ اس یوسف کو دکھلا دے سرِ بازار کھینچ
ہوں گنہگارروں میں تیرے بخش دے مجھ کو کریم
سایۂ رحمت کا میرے سر پر تو اے غفار کھینچ
رشتۂ تارِ رگِ گل کے کمند ناز میں
بلبل بیدل کو اپنے سمت اے گلزار کھینچ
وعدے کے سچے نہیں ہوتے حسینِ بے وفا
انتظار اب اس کے آنے کا نہ تو زنہار کھینچ
یا شفیع المذنبیں روز جزا جوہرؔ کو تو
زمرۂ امت میں اپنے اے مرے سرکار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.