Font by Mehr Nastaliq Web

ہر کسی پر بے سبب قاتل نہ تو تلوار کھینچ

جوہرالتوحید

ہر کسی پر بے سبب قاتل نہ تو تلوار کھینچ

جوہرالتوحید

MORE BYجوہرالتوحید

    ہر کسی پر بے سبب قاتل نہ تو تلوار کھینچ

    ایسے فعلوں سے ذرا ہاتھوں کو تو اے یار کھینچ

    خواست گار سایۂ فضل و کرم تجھ سے ہوں میں

    دامن لطف و عطا مجھ سے نہ اے دلدار کھینچ

    کیا بگاڑا ہے ترا عاشق پہ کیوں ہے یہ ستم

    ہاتھ اپنا ظلم سے اے چرخ کج رفتار کھینچ

    گو بُرا ہوں یا بھلا جیسا ہوں تیرا ہی ہوں میں

    میرے ہر ہر عیب پر اک پردہ اے ستار کھینچ

    باندہ ہمت کی کمر مثلِ زلیخا العزیز

    جذبہ اس یوسف کو دکھلا دے سرِ بازار کھینچ

    ہوں گنہگارروں میں تیرے بخش دے مجھ کو کریم

    سایۂ رحمت کا میرے سر پر تو اے غفار کھینچ

    رشتۂ تارِ رگِ گل کے کمند ناز میں

    بلبل بیدل کو اپنے سمت اے گلزار کھینچ

    وعدے کے سچے نہیں ہوتے حسینِ بے وفا

    انتظار اب اس کے آنے کا نہ تو زنہار کھینچ

    یا شفیع المذنبیں روز جزا جوہرؔ کو تو

    زمرۂ امت میں اپنے اے مرے سرکار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے