ہے تیرے آنے سے کیا شور الاماں صیاد
ہے تیرے آنے سے کیا شور الاماں صیاد
کوئی تو کرتا ہے نالہ کوئی فغاں صیاد
تیرے ہی آنے سے مرغ چمن کے خوں ہیں خشک
تجھی کو دیکھ کے بلبل ہے نیم جاں صیاد
ستم رسیدوں کے نالوں سے ڈر تو اے ظالم
عجیب تیر ہے یہ آہ الاماں صیاد
اگر رہا نہ ہو ئے موسم بہار میں ہم
پھڑک پھڑک کے قفس ہی میں دیں گے جاں صیاد
گذر ہو بلبل شیدا کا گل تلک کیسے
ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں باغباں صیاد
بچے گی کیسے عنا دل کی جان گلشن میں
لگائے پھرتا ہے جب تیرا ور کماں صیاد
نہ جائے گا ترے پھندے سے آپ جوہرؔ اب
نہ اس طرح سے ہو تو اس سے بد گماں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.