Font by Mehr Nastaliq Web

ہے تیرے آنے سے کیا شور الاماں صیاد

جوہرالتوحید

ہے تیرے آنے سے کیا شور الاماں صیاد

جوہرالتوحید

MORE BYجوہرالتوحید

    ہے تیرے آنے سے کیا شور الاماں صیاد

    کوئی تو کرتا ہے نالہ کوئی فغاں صیاد

    تیرے ہی آنے سے مرغ چمن کے خوں ہیں خشک

    تجھی کو دیکھ کے بلبل ہے نیم جاں صیاد

    ستم رسیدوں کے نالوں سے ڈر تو اے ظالم

    عجیب تیر ہے یہ آہ الاماں صیاد

    اگر رہا نہ ہو ئے موسم بہار میں ہم

    پھڑک پھڑک کے قفس ہی میں دیں گے جاں صیاد

    گذر ہو بلبل شیدا کا گل تلک کیسے

    ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں باغباں صیاد

    بچے گی کیسے عنا دل کی جان گلشن میں

    لگائے پھرتا ہے جب تیرا ور کماں صیاد

    نہ جائے گا ترے پھندے سے آپ جوہرؔ اب

    نہ اس طرح سے ہو تو اس سے بد گماں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے