جور و جفا کا مجھ سے گلہ بھی نہ ہو سکے
جور و جفا کا مجھ سے گلہ بھی نہ ہو سکے
پاس ادب سے ترک جفا بھی نہ ہو سکے
اک وہ کہ بے کہے ہمیں دیتا ہے نعمتیں
اک ہم کہ ہم سے شکر ادا بھی نہ ہو سکے
برق غضب نے خرمن ہستی جلا دیا
ہم کامیاب سیر و قضا بھی نہ ہو سکے
توبہ کا ٹوٹنا تھا کہ رخصت ہوئی بہار
احسان مند جرم و خطا بھی نہ ہو سکے
مجھ سے شب فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ
نا طاقتی سے نالہ سرا بھی نہ ہو سکے
- کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 192)
- مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.