جدا سب سے یہاں پھر آپ کا کردار ہو جائے
جدا سب سے یہاں پھر آپ کا کردار ہو جائے
جو دل میں ہے زباں پر اس کا گر اظہار ہو جائے
نہ مارو اس طرح پتھر کبھی خاموش لہروں میں
پتا کیا کب پلٹ کر اس طرف سے وار ہو جائے
لکھیں گے سچ قلم سے اب یہی وعدہ کیا ہم نے
بھلے دشمن کوئی اب شہر میں ہی یار ہو جائے
اسی ڈر سے دفع اس کو کیا محفل سے واعظ نے
ادھک مشہور اس سے وہ نہ بر خوردار ہو جائے
ہمیں منظور ہے آداب آگے سے تمہیں کرنا
پہل گر تم کرو تو دل گل گلزار ہو جائے
رہے تا عمر ہم خود کو بچاتے عشق بازی سے
دعا ہے اب وہ بیماری ہمیں بھی یار ہو جائے
رکھو آہستہ آہستہ قدم دل کے بغیچے میں
ہمیں ڈر ہے کہیں ہم کو نہ تم سے پیار ہو جائے
لگا لو گے اگر ڈیرا ہمارے خواب میں یوں تم
ہماری نیند آنکھوں سے نہ بے گھر بار ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.