Font by Mehr Nastaliq Web

جدا سب سے یہاں پھر آپ کا کردار ہو جائے

ورشا شرما

جدا سب سے یہاں پھر آپ کا کردار ہو جائے

ورشا شرما

MORE BYورشا شرما

    جدا سب سے یہاں پھر آپ کا کردار ہو جائے

    جو دل میں ہے زباں پر اس کا گر اظہار ہو جائے

    نہ مارو اس طرح پتھر کبھی خاموش لہروں میں

    پتا کیا کب پلٹ کر اس طرف سے وار ہو جائے

    لکھیں گے سچ قلم سے اب یہی وعدہ کیا ہم نے

    بھلے دشمن کوئی اب شہر میں ہی یار ہو جائے

    اسی ڈر سے دفع اس کو کیا محفل سے واعظ نے

    ادھک مشہور اس سے وہ نہ بر خوردار ہو جائے

    ہمیں منظور ہے آداب آگے سے تمہیں کرنا

    پہل گر تم کرو تو دل گل گلزار ہو جائے

    رہے تا عمر ہم خود کو بچاتے عشق بازی سے

    دعا ہے اب وہ بیماری ہمیں بھی یار ہو جائے

    رکھو آہستہ آہستہ قدم دل کے بغیچے میں

    ہمیں ڈر ہے کہیں ہم کو نہ تم سے پیار ہو جائے

    لگا لو گے اگر ڈیرا ہمارے خواب میں یوں تم

    ہماری نیند آنکھوں سے نہ بے گھر بار ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے