آنکھوں میں کوئی تیرے سوا جلوہ گر نہیں
آنکھوں میں کوئی تیرے سوا جلوہ گر نہیں
ہر چند تیری دیکھنے والی نظر نہیں
تقدیر بر خلاف قضا کار گر نہیں
تیغ اجل کی روکنے والی سپر نہیں
کیا جانے لے گئی ہے کہاں بیخودی مجھے
کہتی ہے آگہی کہ مجھے کچھ خبر نہیں
لاؤں کہاں سے تیشۂ فرہاد کیا کروں
کوئی پہاڑہے مری گردن پہ سر نہیں
بند نقاب کھولتے ہو کس کے سامنے
موسیٰ کو غش نہ آئے وہ صاحب نظر نہیں
یہ بھیڑ دیکھنے کو جنازے کے ساتھ ہے
تنہا چلا ہوں کوئی مرا ہم سفر نہیں
آگے تک اور دے گا مرا ساتھ جذب شوق
جبرئیل کی بلا سے رسائی ادھر نہیں
ہم کو ہمارے عیب پہ دیتا ہے اطلاع
دشمن سے بڑھ کے کوئی مرا دوست تر نہیں
کیفیؔ غزل لکھی ہے بہ اصرار گرم سے
مدت ہوئی ہے ورنہ تو جہ ادھر نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.