Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھوں میں کوئی تیرے سوا جلوہ گر نہیں

کیفی بہاری

آنکھوں میں کوئی تیرے سوا جلوہ گر نہیں

کیفی بہاری

MORE BYکیفی بہاری

    آنکھوں میں کوئی تیرے سوا جلوہ گر نہیں

    ہر چند تیری دیکھنے والی نظر نہیں

    تقدیر بر خلاف قضا کار گر نہیں

    تیغ اجل کی روکنے والی سپر نہیں

    کیا جانے لے گئی ہے کہاں بیخودی مجھے

    کہتی ہے آگہی کہ مجھے کچھ خبر نہیں

    لاؤں کہاں سے تیشۂ فرہاد کیا کروں

    کوئی پہاڑہے مری گردن پہ سر نہیں

    بند نقاب کھولتے ہو کس کے سامنے

    موسیٰ کو غش نہ آئے وہ صاحب نظر نہیں

    یہ بھیڑ دیکھنے کو جنازے کے ساتھ ہے

    تنہا چلا ہوں کوئی مرا ہم سفر نہیں

    آگے تک اور دے گا مرا ساتھ جذب شوق

    جبرئیل کی بلا سے رسائی ادھر نہیں

    ہم کو ہمارے عیب پہ دیتا ہے اطلاع

    دشمن سے بڑھ کے کوئی مرا دوست تر نہیں

    کیفیؔ غزل لکھی ہے بہ اصرار گرم سے

    مدت ہوئی ہے ورنہ تو جہ ادھر نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے