Sufinama

آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا

فنا بلند شہری

آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا

فنا بلند شہری

MORE BYفنا بلند شہری

    آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا

    اے جلوۂ محبوبی جب تیرا خیال آیا

    تھا ان کی توجہ میں ہر جذب طلب میرا

    ہر چند مؤدب تھی جب میرا سوال آیا

    اس بات پہ بدلی ہے بس چشم کرم ان کی

    عشاق کے ہونٹوں پہ کیوں حرف سوال آیا

    یا ان کے حسین ابرو آئے ہیں تصور میں

    یا محفل ہستی میں رخشندہ ہلال آیا

    ہم سجدہ جہاں کر لیں کعبہ وہیں بن جائے

    مٹ کر تری الفت میں ہم کو یہ کمال آیا

    اب حشر بہ داماں ہے ہر محفل تنہائی

    تم آئے تو فرقت کی عظمت پہ زوال آیا

    پھر رنگ جنوں برسا پھولوں کی قباؤں پر

    یہ کون گلستاں میں آشفتہ نہال آیا

    پیغام فناؔ لایا تسکین دل مضطر

    وہ آ گئے نظروں میں جب وقت وصال آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY