Font by Mehr Nastaliq Web

بن تیرے ایک آن رہوں یہ کبھی نہ ہو

خواجہ رکن الدین عشقؔ

بن تیرے ایک آن رہوں یہ کبھی نہ ہو

خواجہ رکن الدین عشقؔ

MORE BYخواجہ رکن الدین عشقؔ

    بن تیرے ایک آن رہوں یہ کبھی نہ ہو

    وہ زندگی ہی مرگ ہے جو پاس تو نہ ہو

    آزار دوں کسی کو یہ مجھ سے کبھی نہ ہو

    رہتا ہے خوف دل میں کہ اس دل میں تو نہ ہو

    وہ دل ہی کیا ہے جس کو نہ ہو جستجو تری

    وہ کیا زباں ہے جس پہ تری گفتگو نہ ہو

    نعرہ وہی ہے کام کا تاثیر جس میں ہو

    کس کام کی وہ ہو ہے کہ جس ہو میں ہو نہ ہو

    جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    بہتر یہ آرزو ہے کہ کچھ آرزو نہ ہو

    نسبت نہیں ہے آگ سے کچھ آئینہ کو عشقؔ

    وہ تیرے سوز دل کے کبھی رو بہ رو نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے