زبان و دل سے گئے اور جگر سے جاں سے گئے
زبان و دل سے گئے اور جگر سے جاں سے گئے
تمہارے عشق میں جانے کہاں کہاں سے گئے
مجھے زمین کی گہرائیوں میں ڈھونڈو گے
میری رسائی کے پہلو جو آسماں سے گئے
اب ان گلوں کے مہکنے کی کیا توقع ہے
ذرا جو شاخ سے ہٹتے ہی گلستاں سے گئے
وہ طنز لوٹ کے آئیں یہ غیر ممکن ہے
جو حرف حرف نکل کر تیری زباں سے گئے
وہ کامیابی کی مسند کو چھو نہ پائے
جو قدم قدم پہ زمانے کے امتحاں سے گئے
جنہیں ملا ہی نہیں ہے شعور جینے کا
جہاں میں رہتے ہوئے بھی وہ دو جہاں سے گئے
سپرد خاک کئے جن کی ہو گئی مدت
ذہن سے میرے نہ وہ دل کے آشیاں سے گئے
کروں زبان سے شایاںؔ کیا ثنا ان کی
گزر کے ایک ہی شب میں جو لا مکاں سے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.