Font by Mehr Nastaliq Web

مجھے اس جہانِ فریب میں کسی باوفا کی تلاش ہے

خواجہ شایان حسن

مجھے اس جہانِ فریب میں کسی باوفا کی تلاش ہے

خواجہ شایان حسن

MORE BYخواجہ شایان حسن

    مجھے اس جہانِ فریب میں کسی باوفا کی تلاش ہے

    جو ہو آئینہ مری زیست کا اسی آشنا کی تلاش ہے

    وہی عشق ہے، وہی بے کلی، وہی درد و غم، وہی بے دلی

    اے مرے مسیحِ دل و جگر، تری اک عطا کی تلاش ہے

    میں ہوں بے خبر تری راہ سے، تری درس گاہِ نگاہ سے

    جو سکون دل کو عطا کرے مجھے اس دوا کی تلاش ہے

    نہ وہ دل رہا، نہ وہ درد ہے، نہ وہ چاہتوں کی کسک رہی

    جو جھنجھوڑ دے مری روح کو اسی اک صدا کی تلاش ہے

    نہ خلوص ہے، نہ خرام ہے، یہ زمانہ زر کا غلام ہے

    جو نہ بک سکے جو نہ جھک سکے اسی رہنما کی تلاش ہے

    نہ صنم کدے میں سکون ہے، نہ حرم میں ایسا قرار ہے

    جہاں عشق ہو، جہاں لطف ہو مجھے اس جگہ کی تلاش ہے

    مجھے کیا غرض کسی دیر سے، مجھے کیوں حرم کی ہو جستجو

    جو چھپا ہے دل کے مکان میں مجھے اس خدا کی تلاش ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے