Font by Mehr Nastaliq Web

ہم نے جی بھر کے زخم کھائے ہیں

خواجہ شایان حسن

ہم نے جی بھر کے زخم کھائے ہیں

خواجہ شایان حسن

MORE BYخواجہ شایان حسن

    ہم نے جی بھر کے زخم کھائے ہیں

    پھر بھی چپ چاپ مسکرائے ہیں

    اس کی بستی میں چھاپ ہے اپنی

    ہم نے وعدے بہت نبھائے ہیں

    وہ جو گزرے تھے بے قراری میں

    پھر سے وہ دن پلٹ کے آئے ہیں

    تم گلابوں کی بات کرتے ہو

    ہم تو کانٹوں پہ چل کے آئے ہیں

    تم نہ کرنا وہی خطا جاناں

    ہم نے غفلت میں دن بتائے ہیں

    تم تصور بھی کر نہیں سکتے

    ہم نے کیا کیا ستم اٹھائے ہیں

    اس کی یادوں سے جب ملی فرصت

    اس کے کوچے میں جا کے آئے ہیں

    دل کی دنیا میں ہر طرف شایانؔ

    اس کی زلفوں کے گہرے سائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے