ہم نے جی بھر کے زخم کھائے ہیں
ہم نے جی بھر کے زخم کھائے ہیں
پھر بھی چپ چاپ مسکرائے ہیں
اس کی بستی میں چھاپ ہے اپنی
ہم نے وعدے بہت نبھائے ہیں
وہ جو گزرے تھے بے قراری میں
پھر سے وہ دن پلٹ کے آئے ہیں
تم گلابوں کی بات کرتے ہو
ہم تو کانٹوں پہ چل کے آئے ہیں
تم نہ کرنا وہی خطا جاناں
ہم نے غفلت میں دن بتائے ہیں
تم تصور بھی کر نہیں سکتے
ہم نے کیا کیا ستم اٹھائے ہیں
اس کی یادوں سے جب ملی فرصت
اس کے کوچے میں جا کے آئے ہیں
دل کی دنیا میں ہر طرف شایانؔ
اس کی زلفوں کے گہرے سائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.