Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

صاف ہو جس کی زباں شمشیر کی حاجت نہیں

کشن سنگھ عارفؔ

صاف ہو جس کی زباں شمشیر کی حاجت نہیں

کشن سنگھ عارفؔ

MORE BYکشن سنگھ عارفؔ

    صاف ہو جس کی زباں شمشیر کی حاجت نہیں

    ہے نگاہ جس کی صفا پھر تیر کی حاجت نہیں

    جب تصور بندھ گیا تصویر کی حاجت نہیں

    زلف کے پابند کو زنجیر کی حاجت نہیں

    خوبرو خود آ ملے جب پھر کسی کا خوف کیا

    یہ وہ جادو ہے جسے تسخیر کی حاجت نہیں

    دل ربا ہر دل میں ہے پھر کیوں دکھاتا ہے کسے

    جان اپنی عضو پھر تکسیر کی حاجت نہیں

    یا رکے کوچے میں جانا پی محبت کی شراب

    مست و دیوانہ کو کچھ توقیر کی حاجت نہیں

    عالم و عاقل کو جانا اس جگہ دشوار ہے

    کودنا دریا میں جا تدبیر کی حاجت نہیں

    نامہ بر خط دے کے اس کو لفظ کچھ مت بولیو

    دم بخود رہیو تیری تقریر کی حاجت نہیں

    کعبہ و بت خانہ و گرجا برابر ہیں ہمیں

    اس میری تقریر کو تفسیر کی حاجت نہیں

    سجدہ گاہ عاشقاں ہے دلبروں کا صاف دل

    یہ وہ مسجد ہے جسے تعمیر کی حاجت نہیں

    عاشق صادق کو جب نابود ہے سارا جہاں

    جب یہ دل بے دل ہوا اکسیر کی حاجت نہیں

    بے گماں مل جائے گا جو ہے لکھا قسمت کے بیچ

    صابر و شاکر کو کچھ جاگیر کی حاجت نہیں

    عارفاؔ ہے حق یہی بس غیر حق کچھ بھی نہ جان

    پی مئے وحدت یہاں تاخیر کی حاجت نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان عارفؔ (Pg. 65)
    • Author : کشن سنگھ عارفؔ
    • مطبع : چشمۂ نور پریس، امرتسر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے