Font by Mehr Nastaliq Web

کیوں جوانی آئی دو دن کے لیے

ریاض خیرآبادی

کیوں جوانی آئی دو دن کے لیے

ریاض خیرآبادی

MORE BYریاض خیرآبادی

    کیوں جوانی آئی دو دن کے لیے

    دن گنے جاتے تھے اس سن کے لیے

    حرص مے مجھ کو نہیں اے مئے فروش

    ایک خم کافی ہے دو دن کے لیے

    یہ بھلے سب سے ہمارے واسطے

    ہم برے کن کے لئے ان کے لیے

    چھیڑ میری دیکھنا وقت اذاں

    کان چپکے سے مؤذن کے لیے

    تو بتا دے تیرے ہونٹوں کے نثار

    بو سے کیوں کر تیرے گن گن کے لیے

    ہے فرشتوں کی برابر عمر حور

    کیا تمنا ایسی کمسن کے لیے

    دیدہ و دل پھوٹ کر روتے ہیں کیوں

    جھینکتے تھے ہم اسی دن کے لیے

    ہم نے اپنے آشیاں کے واسطے

    جو چبھے دل میں وہی تنکے لیے

    تم جوانی کے مزے لوٹو ریاضؔ

    عیب بھی زیبا ہے اس سن کے لیے

    مأخذ :
    • کتاب : ریاض رضواں (Pg. 409)
    • Author : ریاضؔ خیرآبادی
    • مطبع : کتاب منزل،لاہور (1961)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے