Font by Mehr Nastaliq Web

ہائے وہ پتھر ترے جلووں سے جو مسحور تھا

منظر اکبرآبادی

ہائے وہ پتھر ترے جلووں سے جو مسحور تھا

منظر اکبرآبادی

MORE BYمنظر اکبرآبادی

    ہائے وہ پتھر ترے جلووں سے جو مسحور تھا

    جل اٹھا تو برق تھا اور بجھ گیا تو طور تھا

    کیا خبر پھر کس پہاڑی کو وہ کر لیں جلوہ گاہ

    اک زمانہ تھا کہ جب موسیٰ نہ تھے اور طور تھا

    دیکھیے کس نام سے ہو ذکرِ مرگِ عاشقی

    نام میری بے خودی کا زندگی مشہور تھا

    فطرتاً جاتا کدھر تیرا خرابِ جستجو

    بت کدہ تھا ہر قدم پر اور کعبہ دور تھا

    جب ہمارا دل نہ تھا تو حسنِ ہر جائی ترا

    بادۂ بے جام تھا اک جلوۂ بے طور تھا

    دعوتِ تابش میں دے آیا شرار حسن کو

    کیا کروں منظرؔ مجھے پاس نظر منظور تھا

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 480)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے