ہائے وہ پتھر ترے جلووں سے جو مسحور تھا
ہائے وہ پتھر ترے جلووں سے جو مسحور تھا
جل اٹھا تو برق تھا اور بجھ گیا تو طور تھا
کیا خبر پھر کس پہاڑی کو وہ کر لیں جلوہ گاہ
اک زمانہ تھا کہ جب موسیٰ نہ تھے اور طور تھا
دیکھیے کس نام سے ہو ذکرِ مرگِ عاشقی
نام میری بے خودی کا زندگی مشہور تھا
فطرتاً جاتا کدھر تیرا خرابِ جستجو
بت کدہ تھا ہر قدم پر اور کعبہ دور تھا
جب ہمارا دل نہ تھا تو حسنِ ہر جائی ترا
بادۂ بے جام تھا اک جلوۂ بے طور تھا
دعوتِ تابش میں دے آیا شرار حسن کو
کیا کروں منظرؔ مجھے پاس نظر منظور تھا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 480)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.