کلیوں کی جلوہ گہہ میں پھولوں کی انجمن میں
کلیوں کی جلوہ گہہ میں پھولوں کی انجمن میں
ہے ذکر اے مسافر تیرا ترے وطن میں
اک کیف تاج میں ہے اک موج ہے چمن میں
کوثر مرے وطن میں جنت مرے وطن میں
اب میرےبعد جوشِ وحشت ہے بے ٹھکانے
گنجائشیں تھیں اس کی میرے ہی پیرہن میں
نظروں میں تیری ہوگیا کیا حال آنسؤوں کا
شبنم لرز رہی ہے سورج کی ہر کرن میں
ظلمِ خزاں بجا ہے اے ہم صفیر لیکن
قسمت کا ہاتھ بھی تھا تارا جی چمن میں
صیاد اب چمن سے کیا کیجیے کنارا
جینا اسی چمن میں مرنا اسی چمن میں
مینائے فکر میں ہے بزمِ ازل کا بادہ
الہام کی جھلک ہے منظرؔ مرے سخن میں
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 480)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.