معشوق پر نہ جان جو اپنی فدا کرے
معشوق پر نہ جان جو اپنی فدا کرے
مجمع میں جان نثاروں کے وہ نام کیا کرے
اب تو میں بوسۂ لبِ جاں بخش لے چکا
ہوتا ہے کیا ہزار وہ غصہ ہوا کرے
غیروں میں آپ بیٹھ کے مہندی رچائے
آنکھوں سے میری خون کا دریا بہا کرے
معراج قومی ہو اسی انسان کو نصیب
اپنی مدد جو آپ بفضلِ خدا کرے
فیض و کرم سے حشر کے مقبولؔ یا خدا
باغِ جہاں میں خیر سے پھولا پھلا کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.