سمجھتا ہے دل ناداں کہ میں نے کب کیا کچھ ہے
سمجھتا ہے دل ناداں کہ میں نے کب کیا کچھ ہے
فرشتوں نے خدا جانے کہاں سے لکھ دیا کچھ ہے
نگاہ ناز کہتی ہے ترا دل کیا کریں لے کر
نہ اس میں جان باقی ہے نہ ہمت حوصلہ کچھ ہے
خط تقدیر توبہ توبہ کیا تحریر دشمن ہے
کہ ہر اک حرف پر دھوکا ہے کچھ کا لکھ گیا کچھ ہے
مٹا دی فرد میری داور محشر نے یہ کہہ کر
کریں کیا شافع محشر نے اس پر لکھ دیا کچھ ہے
وہ ایسی ویسی شے تو منہ لگاتے ہی نہیں نیرؔ
جنہیں جام مئے الفت کا چسکا پڑ گیا کچھ ہے
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد پانچویں (Pg. 331)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.