Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

میرا الم الم نہیں میری خوشی خوشی نہیں

منظور عارفی

میرا الم الم نہیں میری خوشی خوشی نہیں

منظور عارفی

میرا الم الم نہیں میری خوشی خوشی نہیں

سامنے تو اگر نہیں زندگی زندگی نہیں

ناصحا آئے گا تجھے لطف نہ لطف خاص کا

تیری نگاہ میں اگر حسن کی روشنی نہیں

آہ نہ کر جگر جلا اپنی نظر نظر بنا

چارۂ درد خاص ہے عشق فسوں گری نہیں

کھل نہ سکے راز کچھ تجھ پر کمال عشق کا

ہرہر نفس تجھے اگر عشق میں بیکلی نہیں

دیر پہنچ حرم کو جا سر بہ سجود ہو تو کیا

دل کو ترے جو کھوج ہے کھوج وہ دل لگی نہیں

تیرا خیال تیری یاد تیری طلب بہ قید ہوش

بندۂ عشق کے لیے کھیل ہے بندگی نہیں

ہم نے قبول بارہا دیکھ لیا پرکھ لیا

داتا حسن کے لعل پر فیض کی کچھ کمی نہیں

مأخذ :
  • کتاب : کلامِ منظور عارفی (مرتبہ حسن نواز شاہ) (Pg. 80)
  • مطبع : مخدومہ امیر جان لائبریری، نرالی (2024)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے