Sufinama

مرا عشق منظر عام پر ترا حسن پردۂ راز میں

قیصرؔ شاہ وارثی

مرا عشق منظر عام پر ترا حسن پردۂ راز میں

قیصرؔ شاہ وارثی

MORE BYقیصرؔ شاہ وارثی

    مرا عشق منظر عام پر ترا حسن پردۂ راز میں

    یہی فرق روز ازل سے ہے ترے ناز میرے نیاز میں

    نہ حقیقتوں سے مجھے غرض نہ قدم ہے میرا مجاز میں

    کہ میں ہوں تلاش جمال میں کہ میں ہوں تجسس ناز میں

    میرے سجدہ ہائے جنوں کو اب کسی در سے کچھ نہیں واسطہ

    کہ ہزار کعبہ و دیر ہیں مری اک جبین نیاز میں

    نہ وہ ہوش ہے نہ وہ بے خودی نہ خرد رہی نہ جنوں رہا

    یہ تری نظر کی ہیں شوخیاں یہ کمال ہے ترے ناز میں

    مجھے کیا خبر کہ بقا ہے کیا مجھے کیا خبر کہ فنا ہے کیا

    کہ میں دو جہاں سے ہوں بے خبر ترے عشق فتنہ نواز میں

    یہ دعا ہے قیصرؔ وارثی کہ مدینہ میرا مقام ہو

    مری زندگی کی جو شام ہو تو سحر ہو اس کی حجاز میں

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 207)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے